ردیف ص
mansoor afaq poetry
غزل
فردوس سے آگے ہے وہ سرچشمہ ء مخصوص
جاتا ہے مدنیہ سے بس اک رستہ ء مخصوص
اپنی تو رسائی نہیں اس بامِ فلک تک
معلوم کیا جائے کوئی بندہ ء مخصوص
اے شہرِ گداگر ترے والی کیلئے کیا
بنوانا ضروری ہے کوئی کاسہ ء مخصوص
انکارِ مسلسل کی فصیلیں ہیں جہاں پر
تسخیر کروں گا میں وہی رشتہ ء مخصوص
اک نرم سے ریشے کی کسی نس کے نگر میں
بس دیکھتا پھرتا ہوں ترا چہرہ ء مخصوص
کہتے ہیں کہ آسیب وہاں رہنے لگے ہیں
ہوتا تھا کسی گھر میں مرا کمرہ ء مخصوص
سنتے ہیں نکلتا ہے فقط دل کی گلی سے
منزل پہ پہنچ جاتا ہے جو جادہ ء مخصوص
لوگوں سے ابوزر کے روابط ہیں خطرناک
صحرا میں لگایا گیا پھر خیمہ ء مخصوص
ہنستے ہوئے پانی میں نیا زہر ملا کر
بھیجا ہے کسی دوست نے مشکیزہ ء مخصوص
آواز مجھے دیتا ہے گرداب کے جیسا
منصور سمندر میں کوئی دیدہ ء مخصوص
دیوان منصور آفاق
جاتا ہے مدنیہ سے بس اک رستہ ء مخصوص
اپنی تو رسائی نہیں اس بامِ فلک تک
معلوم کیا جائے کوئی بندہ ء مخصوص
اے شہرِ گداگر ترے والی کیلئے کیا
بنوانا ضروری ہے کوئی کاسہ ء مخصوص
انکارِ مسلسل کی فصیلیں ہیں جہاں پر
تسخیر کروں گا میں وہی رشتہ ء مخصوص
اک نرم سے ریشے کی کسی نس کے نگر میں
بس دیکھتا پھرتا ہوں ترا چہرہ ء مخصوص
کہتے ہیں کہ آسیب وہاں رہنے لگے ہیں
ہوتا تھا کسی گھر میں مرا کمرہ ء مخصوص
سنتے ہیں نکلتا ہے فقط دل کی گلی سے
منزل پہ پہنچ جاتا ہے جو جادہ ء مخصوص
لوگوں سے ابوزر کے روابط ہیں خطرناک
صحرا میں لگایا گیا پھر خیمہ ء مخصوص
ہنستے ہوئے پانی میں نیا زہر ملا کر
بھیجا ہے کسی دوست نے مشکیزہ ء مخصوص
آواز مجھے دیتا ہے گرداب کے جیسا
منصور سمندر میں کوئی دیدہ ء مخصوص
دیوان منصور آفاق
No comments:
Post a Comment